سابق فوجی 14 سال کی سزا کاٹنے کے بعد ثابت ہوا بے گناہ!
جیل سے آزاد ہونے کے بعد بلبیر سنگھ نے کہا کہ ’’میں بے قصور تھا لیکن پھر بھی جیل میں تھا۔ اب قتل کا الزام ان کے سر پر نہیں، لیکن اپنی زندگی کے 14 سال، ملازمت اور عزت سب گنوا چکا ہوں۔‘‘
ایک سابق فوجی نے ذیلی عدالت کے ذریعہ عمر قید کی سزا سنائے جانے کے بعد 14 سال جیل میں گزار لیے اور جب سزا مکمل ہونے میں محض 11 دن باقی رہ گئے تھے تو ہائی کورٹ نے سابق فوجی کو سبھی الزامات سے بری کر دیا۔ گویا کہ ایک ناکردہ گناہ کے لیے 45 سالہ بلبیر سنگھ یادو نامی سابق فوجی کو 14 سال کی سزا مل گئی۔ اس بات پر اب بلبیر سنگھ افسوس ظاہر کر رہے ہیں اور ضائع ہو چکے وقت کا ماتم کرتے نظر آ رہے ہیں۔
دراصل معاملہ سنہ 2006 کا ہے جب ایک قتل معاملہ میں سابق فوجی جوان بلبیر سنگھ کو گرفتار کر جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ انھیں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اب سبھی الزامات سے بری کر دیا ہے۔ جیل سے آزاد ہونے کے بعد بلبیر سنگھ نے کہا کہ ’’میں بے قصور تھا لیکن پھر بھی جیل میں تھا۔ اب قتل کا الزام ان کے سر پر نہیں، لیکن اپنی زندگی کے 14 سال، ملازمت اور عزت سب گنوا چکے ہیں۔‘‘
میڈیا ذرائع میں آ رہی خبروں کے مطابق سنہ 2006 میں بلبیر اور ان کے دوست رادھے شیام یادو کو سریندر راجپوت کے قتل معاملہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ذیلی عدالت نے ان کے دوست کو بری کر دیا تھا اور بلبیر کو تاحیات قید کی سزا سنائی تھی۔ 26 جنوری کو سزا پوری کرنے کے بعد وہ رہا ہونے والے تھے، اس سے ٹھیک 11 دن پہلے، یعنی 15 جنوری کو ہائی کورٹ نے انھیں باعزت بری کر دیا۔
بلبیر سنگھ کے وکیل اتل گپتا نے بتایا کہ ہائی کورٹ کی ڈبل بنچ نے انھیں بری کیا ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ ’’یہ افسوسناک ہے کہ جو 14 سال بلبیر فوج میں رہتے ہوئے ملک کی حفاظت میں لگا سکتے تھے، وہ وقت انھیں اس طرح جیل میں گزارنی پڑی۔‘‘ اچھی بات یہ رہی کہ قتل کے الزام کا جو تمغہ ان کے سر پر لگا تھا، وہ صاف ہو چکا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔