لکھیم پور تشدد معاملہ پر سوال پوچھا گیا تو مشتعل ہو گئے مرکزی وزیر مملکت اجے مشرا، صحافیوں کو دی گالی
مرکزی وزیر مملکت اجے مشرا ٹینی نے بدھ کو ایک تقریب میں اپنے حواس اس وقت کھو دیئے جب صحافی نے ان سے لکھیم پور کھیری معاملے میں ایس آئی ٹی کے الزامات پر سوال پوچھا۔
مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی نے بدھ کے روز ایک تقریب میں اس وقت اپنے حواس کھو دیئے جب ایک صحافی نے لکھیم پور تشدد معاملہ پر ان سے سوال کیا۔ اجے مشرا اس قدر ناراض ہوئے کہ میڈیا اہلکاروں کے ساتھ بدزبانی تک کرنے لگے۔ مرکزی وزیر مملکت ایک چائلڈ کیئر سینٹر میں آکسیجن پلانٹ کے افتتاح کے لیے پہنچے تھے۔ جب ایک صحافی نے ان سے لکھیم پور کھیری معاملے میں ایس آئی ٹی کے ذریعہ الزامات عائد کیے جانے کے بارے میں پوچھا، تو وہ صحافیوں کو ہی گالی دینے لگے۔
لکھیم پور کے اویل میں مدر چائلڈ کیئر کے آکسیجن پلانٹ کا افتتاح کرنے پہنچے اجے مشرا ٹینی سے جب بیٹے آشیش مشرا کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’’یہی سا... جو میڈیا والے ہیں نہ، ایک بے قصور آدمی کو پھنسایا ہے، شرم نہیں آتی ہے، کتنے گندے لوگ ہیں... اسپتال ہے، سب ہے، یہ نہیں دکھائی دیتا ہے۔‘‘
جب صحافیوں نے اجے مشرا سے ایس آئی ٹی رپورٹ کے بارے میں سوال کیا گیا تو وہ بہت زیادہ مشتعل ہو گئے۔ انھوں نے ناراض ہوتے ہوئے کہا کہ ’’جا کر ایس آئی ٹی سے پوچھو، یہ تو تمھارے میڈیا والے ہیں نہ، انہی سا... نے ایک بے قصور آدمی کو پھنسایا ہے۔ شرم نہیں آتی ہے۔ کتنے گندے لوگ ہیں۔ کیا جاننا چاہتے ہو... ایس آئی ٹی سے نہیں پوچھے...۔‘‘
اس دوران اجے مشرا نے پورے واقعہ کو ریکارڈ کرنے والے ایک دیگر صحافی کو موبائل فون بند کرنے کے لیے بھی کہا۔ انھوں نے نازیبا الفاظ کا استعمال کیا اور وہاں موجود میڈیا اہلکاروں کو دھمکایا۔ انھوں نے صحافیوں کو ’چور‘ بھی کہا۔
یہ بھی پڑھیں : متحدہ عرب امارات میں یہودی بچّوں کے پہلے تربیتی کیمپ کا آغاز
واضح رہے کہ 3 اکتوبر کو لکھیم پور کے تکونیا تشدد میں 8 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ الزام ہے کہ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا عرف مونو نے اپنی جیپ کسانوں پر چڑھا دی تھی۔ اس کے بعد ناراض بھیڑ نے آشیش کے ڈرائیور سمیت چار لوگوں کا قتل کر دیا تھا۔ اس معاملے میں 14 لوگوں کو ملزم بنایا گیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔