کانگریس احتجاج: راہل اور پرینکا گاندھی کنگز وے کیمپ سے رہا، تقریباً 2 گھنٹے بعد حراست ختم

راہل اور پرینکا گاندھی کنگز وے کیمپ سے رہا، تقریباً 2 گھنٹے بعد حراست ختم
دہلی پولیس کی حراست سے رہائی کے بعد انڈیا بلاک کے ارکان پارلیمنٹ نیو پولیس لائن کنگز وے کیمپ سے باہر آ گئے۔ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی بھی تقریباً دو گھنٹے حراست میں رکھے جانے کے بعد رہا کر دیے گئے۔ دونوں ایک ہی گاڑی میں کنگز وے کیمپ سے باہر نکلے۔
رہائی کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ پون کھیڑا نے کہا، ’’ہنگامہ تو اب شروع ہوا ہے۔ گیانیش کمار کو افسوس ہوگا کہ آج ملاقات کیوں نہیں کی۔ آگے آگے دیکھیے کیا ہوتا ہے۔‘‘
اس سے قبل کانگریس نے ایکس پر الزام عائد کیا کہ قائد حزب اختلاف راہل گاندھی سمیت اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کو کنگز وے کیمپ میں بند رکھا گیا تھا۔ پارٹی نے کہا کہ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی وہاں پہنچیں اور خود گیٹ پر چڑھ کر لاک کھولا۔ کانگریس نے ویڈیو بھی شیئر کی ہے، جس میں پرینکا گاندھی کو گیٹ پر چڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ وہ ’مودی-شاہ کی آمریت’ کے سامنے جھکنے یا ٹوٹنے والی نہیں ہے اور ’ووٹ چوروں‘ کا حساب ہوگا۔
راہل گاندھی کو حراست میں لے کر کنگز وے کیمپ منتقل کیا گیا
الیکشن کمیشن سے ملاقات کے مطالبے پر آکاشوانی بھون میں دھرنے کے بعد لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا۔ پولیس انہیں دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ کنگز وے کیمپ لے گئی ہے۔ تقریباً آٹھ گھنٹے تک جاری دھرنے کے بعد پولیس نے راہل گاندھی اور دیگر رہنماؤں کو وہاں سے ہٹایا۔
راہل، پرینکا سمیت کانگریس ارکان کا دھرنا 8 گھنٹے بعد ختم، پولیس نے حراست میں لیا
آکاشوانی احاطے میں دھرنا دے رہے راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، پون کھیڑا سمیت کانگریس کے دیگر ارکان پارلیمنٹ کو دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ تقریباً 8 گھنٹے بعد دھرنا ختم ہو گیا۔ پولیس نے کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی اور انڈیا بلاک کے دیگر رہنماؤں کو بھی حراست میں لیا۔ یہ رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف آکاشوانی بھون پر احتجاج کر رہے تھے اور ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ دریں اثنا، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کرنے والے کانگریس کارکنوں کو بھی دہلی پولیس حراست میں لے رہی ہے۔
’یہ آکاش وانی ہے، آج من کی بات نہیں، جنتا کی بات ہوگی‘، راہل گاندھی
آکاشوانی بھون میں احتجاج کے دوران دھرنے پر بیٹھے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ سے کئی تصاویر شیئر کی ہیں، جن میں وہ پرینکا گاندھی کے ساتھ ایک درخت کے نیچے دھرنا دیتے نظر آ رہے ہیں۔ پوسٹ میں راہل گاندھی نے لکھا، ’’یہ آکاش وانی ہے، آج من کی بات نہیں، جنتا کی بات ہوگی۔‘‘
احتجاج کے دوران راہل گاندھی کا بیان- ’چیف الیکشن کمشنر سے ملنا ہی پڑے گا‘
آکاشوانی بھون میں احتجاج کے دوران دھرنے پر بیٹھے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کہا کہ وہ چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کر کے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کو اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ سے ملنا ہی پڑے گا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ملک کی آواز، یعنی ارکان پارلیمنٹ کی آواز کی توہین کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم صرف الیکشن کمشنر سے ملنا چاہتے ہیں۔ ہمیں یہاں بیٹھنے میں کوئی دقت نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر انہیں یہاں سے ہٹانا چاہتے ہیں تو ہٹا دیں اور کوئی بھی جگہ دے دیں، وہ وہاں بیٹھ جائیں گے۔
گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر چندی گڑھ میں پنجاب یوتھ کانگریس کا احتجاج، واٹر کینن کا استعمال
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر پنجاب یوتھ کانگریس کے کارکن چندی گڑھ میں احتجاج کر رہے ہیں۔ کارکن پنجاب کے چیف الیکٹورل افسر کے دفتر کی جانب بڑھنا چاہتے تھے، تاہم چندی گڑھ پولیس نے راستے میں بیریکیڈنگ کر رکھی تھی۔
مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے چندی گڑھ پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا۔ اس دوران پولیس کو ہلکا طاقت کا استعمال بھی کرنا پڑا۔ احتجاج کے دوران پنجاب یوتھ کانگریس کے کارکنوں، پولیس اور نیم فوجی دستوں کے اہلکاروں کے درمیان دھکم پیل ہوئی۔ بعد ازاں چندی گڑھ پولیس نے متعدد یوتھ کانگریس کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔
اکھلیش یادو کو حراست میں لیے جانے پر سپا کارکنوں میں غصہ، سنت کبیر نگر میں دھرنا
اکھلیش یادو کو حراست میں لیے جانے کے بعد سماج وادی پارٹی کے کارکنوں میں ناراضی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اتر پردیش کے سنت کبیر نگر ضلع میں سپا کارکنوں نے کلکٹریٹ احاطے میں احتجاج شروع کر دیا اور دھرنے پر بیٹھ گئے۔ مظاہرین اکھلیش یادو کی فوری رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ احتجاج کے دوران پولیس اور کارکنوں کے درمیان کشیدگی کی صورت حال بھی پیدا ہوگئی۔
حیدرآباد میں گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ، کانگریس کا احتجاج
کانگریس نے انڈیا اتحاد کی دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر حیدرآباد میں کلکٹریٹ دفتر کے باہر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے الیکشن کمیشن کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
راہل-پرینکا کا دھرنا جاری، کانگریس ارکان کا گیانیش کمار کے خلاف احتجاج
آکاشوانی بھون میں راہل گاندھی کا دھرنا جاری ہے۔ اس دوران آکاشوانی بھون کے اندر کی تصاویر سامنے آئی ہیں، جہاں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، کے سی وینوگوپال، پون کھیڑا، دیپیندر ہڈا اور دیگر کانگریس ارکان پارلیمنٹ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
راہل گاندھی کا دھرنا 5 گھنٹے سے جاری، کہا- ’یہاں سے ہٹانا ہے تو ہٹا دیں، مگر بتا دیں کہاں بیٹھوں‘
آکاشوانی بھون میں راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کا دھرنا تقریباً 5 گھنٹے سے جاری ہے۔ اس دوران راہل گاندھی نے کہا کہ پورا ملک جانتا ہے کہ نریندر مودی اور امت شاہ نے ملک کو ’ہائی جیک‘ کر لیا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا، ’’مجھے یہاں سے ہٹانا ہے تو ہٹا دو، لیکن میری ایک درخواست ہے، مجھے بتا دو کہ میں کہاں بیٹھ سکتا ہوں۔‘‘
اپوزیشن کے 300 سے زائد ارکان گیانیش کمار سے ملنا چاہتے تھے، ہمیں الیکشن کمیشن کے دفتر جانے سے روکا گیا، راہل گاندھی
کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے کہا ہے کہ آج اپوزیشن کے 300 سے زائد ارکان پارلیمنٹ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور دیگر الیکشن کمشنروں سے ملاقات کرنا چاہتے تھے، لیکن انہیں الیکشن کمیشن کے دفتر جانے سے روک دیا گیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ ملک کی عوام کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان کی آواز ہیں، اس کے باوجود انہیں الیکشن کمیشن کے دفتر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ 300 سے زائد ارکان گیانیش کمار سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ ’’ڈرے ہوئے‘‘ ہیں۔ راہل گاندھی نے سوال کیا کہ اگر الیکشن کمیشن عوام کی نمائندگی کرنے والے ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات نہیں کرتا تو پھر جمہوریت کا کیا مطلب رہ جاتا ہے؟
مودی، شاہ، بھاگوت اور گیانیش کمار نے جمہوریت کو برباد کیا: راہل گاندھی
کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کے ساتھ جو کچھ کیا گیا ہے، اسے ’ملک سے غداری‘ کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر جمہوریت کو برباد کرنے کا الزام لگایا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ان لوگوں نے ’ووٹ چرائے‘ اور ملک کو ہائی جیک کر لیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے میں کوئی بھی بچ نہیں پائے گا اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
راہل گاندھی الیکشن کمیشن ہیڈکوارٹر پہنچ کر عرضداشت دینا چاہتے ہیں، لیکن انھیں روکا جا رہا: پون کھیڑا
انڈیا بلاک کے احتجاجی مظاہرہ کے درمیان آکاشوانی بھون احاطہ سے کانگریس رکن پارلیمنٹ پون کھیڑا نے مودی حکومت اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہاں سے الیکشن کمیشن کا دفتر صرف 100 میٹر دور ہے، پھر بھی لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے، انھیں آکاشوانی بھون میں روک دیا گیا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، کے سی وینوگوپال، چرنجیت چنی، عمران پرتاپ گڑھی اور ہم سبھی لوگ آکاشوانی بھون احاطہ میں دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ راہل گاندھی الیکشن کمیشن دفتر پہنچ کر عرضداشت دینا چاہتے ہیں، لیکن انھیں روکا جا رہا ہے۔ راجدھانی میں جمہوریت کی یہی حالت ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’ہم یہاں انتظار کرتے رہیں گے۔ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ ملک کی 64 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ آج ملک کی 64 فیصد آبادی راجدھانی میں سڑکوں پر اتر آئی ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ انھیں کس طرح روکا جا رہا ہے۔‘‘
آکاشوانی بھون احاطہ میں درخت کے نیچے بیٹھے ہیں راہل اور پرینکا
راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی آکاشوانی بھون احاطہ میں درخت کے نیچے بیٹھے نظر آ رہے ہیں۔ وہ میڈیا اہلکاروں سے بات چیت کے دوران ایس آئی آر اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف اپنی بات بھی رکھ رہے ہیں۔ جو ویڈیوز سامنے آئی ہیں، ان میں درخت کے نیچے راہل اور پرینکا کے علاوہ کانگریس کے سرکردہ لیڈران کے سی وینوگوپال اور چرنجیت سنگھ چنّی بھی بیٹھے نظر آ رہے ہیں۔
راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی ’آکاش وانی بھون‘ کے احاطہ میں داخل
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی ’آکاش وانی‘ کے احاطہ میں داخل ہو گئے ہیں۔ کچھ ویڈیوز سامنے آئی ہیں، جن میں پرینکا گاندھی ’گیانیش کمار استعفیٰ دو‘ کا نعرہ بلند کرتی ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں۔ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے ساتھ کچھ کانگریس کارکنان بھی آکاش وانی احاطہ میں ہیں۔ کانگریس نے اپنی آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر بھی ایک پوسٹ میں بتایا ہے کہ وہ آکاش وانی بھون تک پہنچ چکے ہیں اور الیکشن کمیشن ہیڈکوارٹر سے محض 300 کلومیٹر دوری پر ہیں۔ گویا کہ انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ الیکشن کمیشن ہیڈکوارٹر تک مارچ نکالنے پر بضد ہیں۔
راہل اور پرینکا کو پولیس حراست میں لیا، تھوڑی دیر بعد کر دیا رِہا
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی سمیت کچھ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کو پولیس نے اس وقت حراست میں لے لیا، جب وہ پولیس گھیرا کو توڑ کر الیکشن کمیشن دفتر کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تھوڑی ہی دیر بعد انھیں چھوڑ بھی دیا گیا۔ یہ لیڈران الیکشن کمیشن ہیڈکوارٹر کی طرف مارچ کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایسی بھی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ راہل اور پرینکا آکاش وانی بھون میں داخل ہو رہے تھے، لیکن پولیس اہلکاروں نے انھیں اندر نہیں جانے دیا۔
’تحفظ جمہوریت‘ مارچ کو نہیں بڑھنے دیا جا رہا آگے
الیکشن کمیشن ہیڈکوارٹر کی طرف بڑھ رہے انڈیا بلاک کے لیڈران کو آگے بڑھنے سے روک دیا گیا ہے اور بہت کوششوں کے بعد بھی انھیں سیکورٹی اہلکار آگے نہیں جانے دے رہے۔ بیریکیڈنگ کے ذریعہ راستے کو پوری طرح بند کر دیا گیا ہے۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی، سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، پرینکا گاندھی، جیہ بچن سمیت کم و بیش 140 اراکین پارلیمنٹ اور دیگر لیڈران دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں اور ’گیانیش کمار تمھیں جانا ہوگا‘، ’ووٹ چوری گدی چھوڑ‘ جیسے نعرے بلند ہو رہے ہیں۔
ہم لڑتے رہیں گے اور جیتیں گے: کھڑگے
ایک طرف انڈیا بلاک کے ’تحفظ جمہوریت‘ مارچ کو پولیس اہلکاروں نے الیکشن کمیشن ہیڈکوارٹر کی طرف بڑھنے سے روک دیا ہے، اور دوسری طرف کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ’’ہم لڑتے رہیں گے اور جیتیں گے۔‘‘ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ’’آزادی کے بعد عوام کو ووٹ کا حق ملا تھا، جسے مودی حکومت ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار حکومت کی کٹھ پتلی ہے۔‘‘
کھڑگے کا کہنا ہے کہ گیانیش کمار وہی کرتے ہیں جو مودی اور شاہ کہتے ہیں۔ اس سے جمہوریت اور آئین ختم ہو جائے گا اور تاناشاہی قائم ہوگی۔ انھوں نے موجودہ حالات پر فکر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’انڈیا اتحاد کے لوگ اس ناانصافی کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ہم لڑتے رہیں گے اور جیتیں گے۔‘‘
پولیس نے انڈیا بلاک کا مارچ روک دیا، راہل-پرینکا سمیت سبھی اراکین پارلیمنٹ دھرنے پر بیٹھے
انڈیا بلاک کے ’تحفظ جمہوریت‘ مارچ کو دہلی پولیس نے روک دیا ہے۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی سمیت انڈیا بلاک کے کم و بیش 140 اراکین پارلیمنٹ الیکشن کمیشن کی طرف مارچ کر رہے تھے، لیکن اسی درمیان سیکورٹی اہلکاروں نے نیتی آیوگ دفتر کے سامنے انھیں روک دیا۔ مارچ کو روکے جانے کے بعد راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سمیت سبھی اراکین پارلیمنٹ دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں۔
انڈیا بلاک کا ’تحفظ جمہوریت‘ مارچ شروع، 140 اراکین پارلیمنٹ شامل
انڈیا بلاک کے کم و بیش 140 اراکین پارلیمنٹ نے ’تحفظ جمہوریت‘ مارچ شروع کر دیا ہے۔ ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن کے خلاف یہ اراکین پارلیمنٹ پا پیادہ الیکشن کمیشن ہیڈکوارٹر کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس مارچ کے پیش نظر دہلی میں سخت سیکورٹی کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ دہلی پولیس ’باڈی کیمرہ‘ لگا کر ڈیوٹی کر رہی ہے۔ نئی دہلی علاقہ کے ڈی سی پی سچن شرما بھی باڈی کیمرہ لگا کر ڈیوٹی پر تعینات ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ نئی دہلی ضلع میں نظامِ قانون بنائے رکھنے کے لیے 3000 سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ مردوں کی 27 کمپنیاں اور خواتین کی 4 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ عام طور پر ایک پولیس کمپنی میں 100 سے 115 جوان ہوتے ہیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں جمع ہوئے اپوزیشن لیڈران، الیکشن کمیشن دفتر کی طرف مارچ نکالنے کی تیاری
’تحفظ جمہوریت‘ کا بینر لے کر انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ ایس آئی آر اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مارچ نکالنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ وہ پارلیمنٹ کے ’مکر دوار‘ پر جمع ہو گئے ہیں اور تھوڑی دیر میں مارچ شروع کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ہیڈکوارٹر کی طرف بڑھیں گے۔ مکر دوار پر انڈیا بلاک میں شامل پارٹیوں کے سرکردہ لیڈران دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
ضمنی انتخابات: اب تک نندی گرام میں 20 فیصد اور ریجی نگر میں 18 فیصد پولنگ
مغربی بنگال کی 2 اسمبلی سیٹوں کے ساتھ ساتھ تمل ناڈو میں مدورانتکم اور دھاراپورم اسمبلی سیٹوں اور پڈوچیری میں تھٹنچاوڈی کے علاوہ آسام میں ناگاؤں لوک سبھا سیٹ پر ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق نندی گرام میں اب تک 20 فیصد اور ریجی نگر میں 18 فیصد پولنگ ہو چکی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ’عام جنتا اُنین پارٹی‘ (اے جے یو پی) سربراہ اور رکن اسمبلی ہمایوں کبیر کو ریجی نگر پولیس ان کے پارٹی دفتر سے اپنے ساتھ لے گئی ہے۔ ہمایوں کبیر کو پولیس کے ذریعہ لے جائے جانے کی وجہ سامنے نہیں آئی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
