تریپورہ: رانی بازار واقع مندر کی مورتی سے چھیڑ چھاڑ، ناراض لوگوں نے 12 گھروں اور کچھ گاڑیوں کو کیا نذر آتش

اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل اننت داس نے کہا کہ رانی بازار میں کالی ماں کی مورتی سے چھیڑ چھاڑ کے بعد اتوار کی شب کچھ بدمعاشوں نے 12 گھروں میں آگ لگا دی، فی الحال اس میں کسی ہلاکت کی خبر نہیں ہے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر، سوشل میڈیا</p></div>

علامتی تصویر، سوشل میڈیا

user

قومی آوازبیورو

تریپورہ میں ایک طرف تباہناک سیلاب سے لوگ بے حال ہیں، اور دوسری طرف رانی بازار علاقہ کے ایک مندر میں مورتی کے ساتھ ہوئی چھیڑ چھاڑ کے ایک معاملے میں کشیدگی والی حالت پیدا ہو گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مندر میں مورتی کے ساتھ مبینہ چھیڑ چھاڑ سے ناراض کچھ نامعلوم افراد نے 12 گھروں اور کچھ گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا ہے۔

پولیس نے پیر کے روز اس حادثہ کے بارے میں جانکاری دی اور کہا کہ موجودہ حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے علاقے میں کثیر سیکورٹی فورسز کی تعیناتی کی گئی ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بھیڑ کو دیکھ کر لوگ خوف کے سبب اپنے اپنے گھروں میں چلے گئے۔ گھروں کو نذرِ آتش کرنے والوں کی شناخت اب تک نہیں ہو سکی ہے۔


اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل (قانون و انتظام) اننت داس کا اس واقعہ کے تعلق سے کہنا ہے کہ ’’رانی بازار میں کالی ماں کی مورتی سے چھیڑ چھاڑ کے بعد اتوار کی شب کچھ بدمعاشوں نے 12 گھروں میں آگ لگا دی۔ کچھ گاڑیوں اور موٹر سائیکل کو بھی آگ کے حوالے کر دیا گیا۔‘‘ اس واقعہ میں اب تک کسی ہلاکت کی خبر سامنے نہیں آئی ہے۔ اننت داس کا کہنا ہے کہ علاقے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سیکورٹی فورسز کی تعیناتی کی گئی ہے۔ پولیس ڈائریکٹر جنرل (خفیہ) انوراگ دھنکھڑ اور مغربی تریپورہ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کرن کمار نے جائے وقوع کا دورہ بھی کیا اور حالات کا جائزہ لیا۔

بتایا جا رہا ہے کہ ملکیت کو ہوئے نقصان کا جائزہ لینے کے بعد پولیس از خود نوٹس لے کر معاملہ درج کرے گی۔ فی الحال حالات قابو میں ہیں۔ ٹپر اموتھا سپریمو پردیوت کشور مانکیہ دیب برما نے اس واقعہ پر فکر کا اظہار کیا اور سبھی سے نظام قانون بنائے رکھنے کی انھوں نے اپیل کی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’فیس بک‘ پر ایک پوسٹ میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’رانی بازار کے کائتورباری علاقے میں کل رات کا حادثہ فکر انگیز اشارہ ہے۔ میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ نظامِ قانون پر عمل کریں۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔