آج دہلی ہائی کورٹ کے وکلا بازوؤں پر کالی پٹیاں باندھ کر عدالتوں میں پیش ہوئے

ڈی ایچ سی بی اے کی جانب سے جاری کردہ اطلاع میں کہا گیا ہے کہ 10 اکتوبر کو پرامن احتجاج کے دوران وکلا کو غیر قانونی طور پر حراست میں لینے اور ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کی ہم مذمت کرتے ہیں۔

دہلی ہائی کورٹ، تصویر یو این آئی
i

سپریم کورٹ کے باہر10 اکتوبر کو چیف الیکشن کمشنر(سی ای سی) گیانیش کمار کے استعفے اور ایس آئی آر کے خلاف پرامن احتجاج کے دوران دہلی پولیس نے وکلا کو حراست میں لیا تھا۔ اس کے خلاف اب دہلی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن (ڈی ایچ سی بی اے) نے اپنے اراکین سے اپیل کی ہے کہ وہ آج عدالت میں پیش ہونے کے وقت بازوؤں پر کالی پٹیاں باندھیں۔ اس سلسلے میں ایک نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے۔ احتجاج کے دوران دہلی پولیس پر وکلا کے خلاف مبینہ طور پر ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کا الزام ہے۔ اسی کے خلاف وکلا آج بازوؤں پر کالی پٹیاں باندھ کر احتجاج درج کرائیں گے۔

ڈی ایچ سی بی اے کی جانب سے جاری کردہ اطلاع میں کہا گیا ہے کہ 10 اکتوبر کو پرامن احتجاج کے دوران وکلا کو غیر قانونی طور پر حراست میں لینے اور ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ ڈی ایچ سی بی اے کی ایگزیکٹو کمیٹی اپنے اراکین سے درخواست کرتی ہے کہ اس کارروائی کے خلاف احتجاج درج کرانے کے لیے وہ 12 اکتوبر بروز پیر عدالت میں پیش ہونے کے وقت بازوؤں پر کالی پٹیاں باندھ کر آئیں۔ یہ فیصلہ 10 اکتوبر کو بدسلوکی اور طاقت کے استعمال کا سامنا کرنے والے وکلا کے ساتھ یکجہتی ظاہر کرنے کے لیے لیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سبھی اراکین سے تعاون کی اپیل بھی کی گئی ہے۔


درحقیقت اپوزیشن اور سی جے پی کا الزام ہے کہ 2024 کی ووٹر لسٹ میں ایس آئی آر کے ذریعے بڑے پیمانے پر گڑبڑی کی گئی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ حکومت نے انتخاب جیتنے کے لیے گیانیش کمار کے ذریعے ووٹوں کی چوری کی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور سی جے پی نے ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف جنتر منتر پر پرامن مارچ اور احتجاج کی اپیل کی تھی۔ حالانکہ دہلی پولیس نے اس کے لیے کوئی اجازت نہیں دی تھی۔ اس کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ احتجاج میں شامل ہونے کے لیے پہنچے۔ وہیں سپریم کورٹ اور منڈی ہاؤس کے آس پاس کے علاقوں میں کئی وکلا، سینئر وکلا اور خاتون وکلا بھی اس احتجاج میں شامل ہوئے اور پرامن مارچ نکال رہے تھے۔ الزام ہے کہ دہلی پولیس نے سیکورٹی اور پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کے دوران طاقت کا استعمال بھی کیا تھا۔ دہلی کے وکلا میں اسی کارروائی کے خلاف ناراضگی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔