کسان تحریک حکومت کے گلے کی ہڈی بنتی جا رہی ہے... سہیل انجم

اب حکومت کسانوں کے ساتھ اپوزیشن رہنماؤں کی یکجہتی کو دیکھ کر گھبرائی ہوئی ہے۔ اسی لیے وہ الزام پر الزام لگا رہی ہے کہ اپوزیشن رہنما کسانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔

کسان تحریک / آئی اے این ایس
کسان تحریک / آئی اے این ایس
user

سہیل انجم

متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک رفتہ رفتہ ایک بڑی اور ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ جب اس تحریک کا آغاز ہوا تھا تو کسی کو بھی اس کا قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ یہ احتجاج اتنا لمبا چلے گا اور اس کا دائرہ اس قدر بڑھتا جائے گا اور یہ بھی کہ اس میں تمام تر شعبہ ہائے حیات کے لوگ شامل ہوتے جائیں گے۔ ایسا سمجھا جا رہا تھا کہ یہ احتجاج کچھ دنوں تک چلے گا اس کے بعد یا تو حکومت اور کسان تنظیموں کے درمیان کوئی معاہدہ ہو جائے گا یا پھر احتجاج اپنی موت آپ مر جائے گا۔

حکومت کو بھی اس کا اندازہ نہیں تھا کہ یہ احتجاج اس قدر وسیع حلقوں تک پھیل جائے گا اور دھرنے پر بیٹھے کسان اٹھنے کا نام نہیں لیں گے۔ اسی لیے جہاں کسان اپنے اس مطالبے پر ڈٹے رہے کہ حکومت تینوں متنازعہ قانون واپس لے وہیں حکومت بھی اس بات پر اڑی رہی کہ قوانین واپس نہیں ہوں گے۔ البتہ وہ اس میں ترمیم کرنے کو تیار ہے۔ بلکہ اب بھی لگتا ہے کہ حکومت کسی خوش فہمی کا شکار ہے اور وہ یہ سمجھے بیٹھی ہے کہ آج نہیں تو کل کسان تھک جائیں گے اور اٹھ کر خاموشی سے اپنے اپنے گھروں کا راستہ ناپیں گے۔ اسی لیے وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا ہے کہ اگر کسان حکومت کی تجویز پر گفتگو کرنے کے لیے تیار ہیں تو حکومت بھی بات چیت کرنے کے لیے آمادہ ہے۔


حکومت کی تجویز کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ زرعی قوانین کو ڈیڑھ سال تک کے لیے معطل کر دیا جائے۔ کسان رہنماؤں نے اس تجویز کو پہلے ہی سرے سے مسترد کر دیا ہے۔ وہ اب بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ وہ نہ تو ان میں ترمیم کے حق میں ہیں اور نہ ہی معطل رکھنے کے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ انھیں منسوخ کر دیا جائے۔ کسانوں نے اب یہ طے کر لیا ہے کہ خواہ کچھ بھی ہو جائے وہ تب تک واپس نہیں جائیں گے جب تک کہ قوانین منسوخ نہ ہو جائیں۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے اپنا راستہ خود ہی تنگ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس نے کارپوریٹ اداروں یعنی بڑی پرائیویٹ کمپنیوں سے خوب پیسے لیے ہیں اور اسی لیے اس نے یہ قوانین بنائے تاکہ ان کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا جائے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کسانوں کا مطالبہ تسلیم کرتی ہے تو پرائیویٹ کمپنیاں ناراض ہو جائیں گی اور پھر وہ حکومت کے لیے اپنے خزانے کا منہ نہیں کھولیں گی۔ گویا حکومت کے لیے نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن والا معاملہ بنتا جا رہا ہے۔ اگر عام زبان میں کہیں تو یہ کہ کسان تحریک اس کے لیے گلے کی ہڈی اور سانپ کے منھ کی چھچھوندر بنتی جا رہی ہے۔ ہڈی گلے میں اس طرح اٹک گئی ہے کہ وہ نہ اندر جا رہی ہے اور نہ باہر۔ یا پھر اس کی حالت اس سانپ کی سی ہو گئی ہے جس نے چھچھوندر نگلنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ ایسے میں اگر وہ اسے اگلتا ہے تو اس کے اندھا ہو جانے کا خطرہ ہے اور اگر نگلتا ہے تو اس کی جان چلی جانے کا اندیشہ ہے۔


لیکن اگر ہم کسانوں کے عزائم کو دیکھیں تو ان میں ذرا بھی لغزش نظر نہیں آتی۔ بلکہ دن بدن ان کے ارادوں میں مزید مضبوطی آتی جا رہی ہے۔ ارادوں میں مضبوطی کا جذبہ بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت کی باتوں سے پیدا ہو رہا ہے۔ وہ جس طرح تحریک میں یکے بعد دیگرے اقدامات سے جان پھونکتے آرہے ہیں اس سے یہ نہیں لگتا کہ وہ تھکنے والے ہیں۔ ان کا ذہن بڑا زرخیز ہے۔ ان کے پاس ہر سوال کا جواب ہے۔ اور خاص بات یہ ہے کہ وہ کسی بھی سوال پر مشتعل نہیں ہوتے اور نہ کسی سوال کا جواب دینے کے لیے انھیں سوچنا پڑتا ہے۔ بلکہ ایسا لگتا ہے کہ ہر سوال کا جواب ان کی نوک زبان پر ہے۔ ادھر سوال ختم نہیں ہوا کہ ان کا جواب شروع ہو جاتا ہے۔

پہلے تو حکومت نے یہ سمجھا تھا کہ کسان یخ بستہ سردی برداشت نہیں کر پائیں گے اور کیمپوں کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔ پھر انتہائی سردی کے موسم میں کئی روز تک بارشوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ اس وقت حکومت نے یہ سوچا تھا کہ اب تو یہ سب بھاگ جائیں گے۔ بارش میں کب تک بھیگیں گے۔ لیکن اگر چہ ان کے خیمے اکھڑ گئے۔ ان کے بستر گیلے ہو گئے۔ ان کے لحاف اور کمبل پانی پانی ہو گئے لیکن یہ سب ناموافق باتیں بھی ان کے عزائم کو توڑ نہیں سکیں۔ وہ ڈٹے رہے اور موسم کی سختی کو بھی پسینہ آگیا اور اس نے بھی اپنا رخ بدل لیا۔


اب حکومت یہ سوچتی ہے کہ چلو کسانوں نے سب کچھ سہہ لیا گرمی کیسے سہیں گے۔ اب تو بھاگ ہی جائیں گے۔ لیکن راکیش ٹکیت کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ ان تمام اشیا کو دکھا رہے ہیں جن کی مدد سے وہ گرمی کا مقابلہ کریں گے۔ سائبان کے طور پر ایسی مخصوص چٹائیاں لائی جا رہی ہیں جو گرمی کو جذب کرکے اپنے نیچے کے موسم کو خوشگوار بنا دیتی ہیں۔ ٹکیت نے بتایا کہ اب جبکہ گرمی شروع ہوگی تو ان چٹائیوں کا سائبان بنایا جائے گا۔ اس کا کام شروع بھی ہو چکا ہے۔ اسٹیج کے سامنے وسیع سائبان بنا دیا گیا ہے۔ خیموں میں کولر لگائے جائیں گے۔ جہاں ضرورت ہوگی وہاں اے سی بھی لگیں گے۔ انھوں نے یہ باتیں غازی آباد بارڈر پر کہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ بجلی اترپردیش کی حکومت دے گی اور اگر وہ نہیں دے گی تو ہم دہلی حکومت سے لیں گے۔ لیکن اگر دہلی حکومت بھی بجلی دینے سے کترائے گئی تو ہم لوگ جنریٹر کا استعمال کریں گے۔ لیکن جائیں گے کہیں نہیں۔ یہیں رہیں گے۔ گویا وہ لوگ حکومت کے سینے پر مونگ دلتے رہیں گے۔

ان تمام سرگرمیوں کے علاوہ جگہ جگہ کسان مہا پنچایتیں بھی ہو رہی ہیں جن میں لاکھوں لاکھ لوگ شریک ہو رہے ہیں۔ کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی بھی ان پنچایتوں میں حصہ لے رہی ہیں اور اعلان کر رہی ہیں کہ وہ کسانوں کی لڑائی نہیں چھوڑیں گی۔ اس وقت تک لڑتی رہیں گی جب تک کہ قوانین واپس نہ ہو جائیں۔ حکومت کسانوں کے ساتھ اپوزیشن رہنماؤں کی یکجہتی کو دیکھ کر گھبرائی ہوئی ہے۔ اسی لیے وہ الزام پر الزام لگا رہی ہے کہ اپوزیشن رہنما کسانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ حالانکہ وہ گمراہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ کسانوں کے جائز مطالبے کی حمایت کر رہے ہیں۔


اس تحریک کا ایک اور خوشگوار پہلو ہے اور وہ یہ ہے کہ مغربی اترپردیش میں بی جے پی نے مسلمانوں اور جاٹوں کے درمیان نفرت کی جو خلیج پیدا کر دی تھی اس تحریک نے اس کو پاٹ دیا ہے۔ اب جاٹوں کو بھی یہ احساس ہو رہا ہے کہ انھوں نے غلط کیا تھا۔ بی جے پی کے بہکاوے میں آکر انھوں اجیت سنگھ جیسے جاٹ لیڈر کا ساتھ چھوڑ دیا تھا اور ان کو ہرا کر بی جے پی کو جتا دیا تھا۔ اجیت سنگھ کے مقابلے میں بی جے پی کے سنجیو بالیان کو فتح نصیب ہوئی تھی۔ لیکن اب ان کی بھی مٹی پلید ہو رہی ہے۔ جہاں جاٹ اور مسلمان ایک ہی منچ پر آگئے ہیں وہیں کسانوں کے گاؤوں میں بی جے پی لیڈروں کو گھسنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ وہ پہلے بی جے پی سے استعفیٰ دیں پھر گاؤوں میں آئیں۔

سنجیو بالیان کے خلاف تو زبردست احتجاج ہوا۔ حالانکہ ان کے آدمیوں نے کسان تحریک کے حق میں نعرہ لگانے والوں پر حملہ کیا اور انھیں زخمی کیا لیکن اس سے حالات اور بھی بگڑ گئے۔ اب تو بی جے پی لیڈران اپنے حلقوں میں جاتے ہوئے بھی ڈر رہے ہیں۔ امت شاہ نے ان لوگوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں جائیں اور کسانوں کو سمجھائیں کہ یہ قوانین ان کے فائدے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ لیکن کسانوں کا غصہ دیکھ کر ان کو ان کے درمیان جانے کی ہمت نہیں ہو رہی ہے۔ سنجیو بالیان کا جو حشر ہوا اس کے پیش نظر کوئی بھی بھاجپائی نیتا جاتے ہوئے گھبرا رہا ہے۔


بہر حال معاملہ کافی آگے بڑھ چکا ہے۔ کسان اٹھنے والے نہیں ہیں۔ پنجاب، ہریانہ اور مغربی یو پی سے نکل کر یہ تحریک دوسری ریاستوں میں بھی داخل ہو رہی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ حکومت ہوش کے ناخن لیتی ہے یا اپنے تکبر کا شکار ہو کر اپنے انجام کو پہنچتی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 28 Feb 2021, 9:11 PM