شاہی لیچی کی پہلی کھیپ بہار سے برطانیہ بھیجی گئی
چین کے بعد ہندوستان لیچی کا دوسرا پیداواری ملک ہے۔ لیچی کا شفاف، ذائقہ دار خوردنی گودا ہندوستان میں ٹیبل فروٹ کی حیثیت سے مشہور ہے جبکہ چین اور جاپان میں اسے خشک یا ڈبے والی شکل میں ترجیح دی جاتی ہے
نئی دہلی: بہار سے لذیذ و ذائقے دار جی آئی سرٹیفائیڈ شاہی لیچی کی اس سیزن کی پہلی کھیپ کو برطانیہ بھیج دیا گیا ہے۔ شاہی لیچی کو بھیجنے کے لئے فائٹو سینٹری سرٹیفکیشن پٹنہ میں نئے قائم شدہ نئی سہولت سے جاری کیا گیا ہے۔ یہ پھل بہار کے مظفر پور میں کسانوں سے حاصل کیا گیا تھا اور اسے ’سرا انٹرپرائزز‘ بھیج رہی ہے۔ زرعی پروڈکٹ ایکسپورٹ پروموشن اتھارٹی (اپیڈا) نے شاہی لیچی کی برآمدات کو آسان اور سہل بنانے کے لئے بہار کے محکمہ زراعت سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز جیسے کسانوں، برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کی شراکت کے ساتھ پہل کی ہے۔
گزشتہ روز شاہی لیچی کو برآمد کرنے کے لئے منعقدہ اس پروگرام میں ایپیڈا کے صدر ڈاکٹر ایم انگمتھو اور بہار کے شعبۂ زراعت کے چیف سکریٹری این سرون کمار اور دیگر اعلی افسران نے حصہ لیا۔ لیچی کی زندگی کا دورانیہ کم ہونے کے سبب پروسیسڈ شدہ اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کے لئے برآمد ات کے مواقع تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ بہار سے دوسرے ممالک میں بھی لیچی برآمد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
زرد الو آم، کترنی چاول اور مگھہی پان کے بعد 2018 میں جی آئی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والی شاہی لیچی بہار کی چوتھی زرعی پیداوار تھی۔ شاہی لیچی کے لئے جی آئی رجسٹریشن مظفر پور کے ’لیچی گروارزایسو سی ایشن آف بہار‘ کو دیا گیا۔ مظفر پور، ویشالی، سمستی پور، چمپارن، بیگوسرائے اور اس سے متصل علاقوں میں شاہی لیچی کی کاشت کے لئے سازگار آب و ہوا موجود ہے۔ چین کے بعد ہندوستان لیچی کا دوسرا بڑا پیداواری ملک ہے۔ لیچی کا شفاف، ذائقہ دار یا بیج چول یا خوردنی گودا ہندوستان میں ٹیبل فروٹ کی حیثیت سے مشہور ہے۔ جبکہ چین اور جاپان میں اسے خشک یا ڈبے والے شکل میں ترجیح دی جاتی ہے۔ لیچی کی پیداوار میں بہار ہندوستان میں سرفہرست ہے۔
اسٹیٹ اگریکلچر ایکسپورٹ اسکیم تیار کرنے میں ایپیڈا حکومت بہار کو زرعی برآمدات اسکیم بنانے میں مدد فراہم کر رہا ہے، جو ریاست سے زرعی اور پروسیسڈ فوڈ مصنوعات کی برآمدات کو فروغ دینے کے لئے روڈ میپ فراہم کرے گا۔ اسٹیٹ اگریکلچرایکسپورٹ اسکیم کو حتمی شکل دینے کے بعد مکھانا، آم، لیچی اور دیگر پھلوں اور سبزیوں کی برآمدی صلاحیت کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ حکومت بہار ایپیڈا اور دیگر ایجنسیوں کے ساتھ مل کر ضروری بنیادی ڈھانچے جیسے کسٹم کلیئرنس سہولت، لیبارٹری ٹیسٹنگ کی سہولت، پیک ہاؤسز اور پری کولنگ سہولیات جیسی ضرروی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لئے کوششیں کر رہی ہے، جو ریاست کی زرعی برآمدات کی صلاحیت کو بروئے کار لاکر اور اس کو فروغ دے گی۔
بہار کے محکمہ زراعت کے مطابق ایپیڈا کے چیئرمین نے اس موقع پر کہا کہ کووڈ کی وبا کے خاتمے کے بعد پٹنہ میں فوڈ پروسیسنگ سے وابستہ تجارتی ایسوسی ایشنوں کے ساتھ ویلیو ایڈیشن اور پروسیسنگ کے بارے میں ایک کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی اپیڈا بہار کے کسانوں اور کاشتکاری پروڈکشن کرنے والی تنظیموں کو پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات کے لئے تربیت دے گی۔ ایپیڈا، پھلوں اور سبزیوں کی زندگی کا دوارانیہ بڑھانے کے لئے ریاست میں ایک پیک ہاؤس بنانے میں بھی مدد کرے گی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔