انڈیا اتحاد مظاہرہ: ’ہم آئین کے لیے اپنی جان تک دے دیں گے‘، پرینکا گاندھی کا اظہارِ عزم

<div class="paragraphs"><p>آئین کی کاپی دکھاتی ہوئیں پرینکا گاندھی، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

ہم آئین کے لیے اپنی جان تک دے دیں گے: پرینکا گاندھی

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کو جب حراست میں لیا گیا تھا تو وہ اپنے ہاتھوں میں آئین کی کاپی لہراتے ہوئے ظاہر کر رہی تھیں کہ وہ اس کی حفاظت ہر حال میں کریں گی۔ کچھ ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں، جن میں پرینکا گاندھی میڈیا اہلکاروں سے کہہ رہی ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر کے خلاف انڈیا بلاک کی جنگ ان کے استعفیٰ تک جاری رہے گی۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم آئین کے لیے اپنی جان تک دے دیں گے، اس آئین سے بڑی کوئی بھی قیمت نہیں۔‘‘

دہلی پولیس نے حراست میں لیے گئے سبھی اراکین پارلیمنٹ کو چھوڑا

راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے بعد دہلی پولیس نے حراست میں لیے گئے سبھی اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کو چھوڑ دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پرینکا گاندھی اور مہوا موئترا سمیت کئی اراکین پارلیمنٹ و اپوزیشن لیڈران کو چھترسال اسٹیڈیم میں رکھا گیا تھا، جبکہ راہل گاندھی اور کچھ دیگر اراکین پارلیمنٹ کو باراکھمبا تھانہ لے جایا گیا تھا۔ سب سے پہلے راہل گاندھی کو حراست سے چھوڑنے کی خبر سامنے آئی ہے، پھر پرینکا گاندھی کو بھی چھوڑا گیا، اور اب خبریں ہیں کہ سبھی اراکین پارلیمنٹ رِہا کر دیے گئے ہیں۔ اس درمیان کانگریس نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اس طرح حراست میں لیے جانے سے ڈرنے والی پارٹی نہیں ہے، یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدہ سے ہٹا نہیں دیا جاتا۔

پرینکا گاندھی کو بھی دہلی پولیس نے حراست سے آزاد کیا

راہل گاندھی کے بعد پرینکا گاندھی کو بھی دہلی پولیس نے حراست سے آزاد کر دیا ہے۔ انھیں دہلی پولیس چھترسال اسٹیڈیم میں لے گئی تھی، جہاں پرینکا کے ساتھ کئی دیگر اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ اور لیڈران بھی تھے۔ پرینکا گاندھی اور دیگر کئی اپوزیشن لیڈران کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے، جس میں وہ حراست کے دوران گیانیش کمار کے خلاف نعرہ لگاتی ہوئی دیکھی جا رہی ہیں۔ یہ سبھی لیڈران ’گیانیش کمار کہاں ملیں گے؟ مودی جی کی گودی میں‘ نعرہ لگا رہی ہیں۔ پرینکا کے ساتھ اس ویڈیو میں سپریا شرینیت اور مہوا موئترا جیسی شخصیات دیکھی جا سکتی ہیں۔


پولیس نے راہل گاندھی کو حراست سے رِہا کیا

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کو دہلی پولیس نے حراست سے آزاد کر دیا ہے۔ تقریباً 2 گھنٹے انھیں حراست میں رکھا گیا اور پھر چھوڑ دیا گیا۔ حالانکہ کئی اراکین پارلیمنٹ کو اب بھی پولیس نے اپنی حراست میں رکھا ہوا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ راہل گاندھی کو جس جگہ پر حراست میں رکھا گیا تھا، وہاں کانگریس اور انڈیا بلاک کے کئی اراکین پارلیمنٹ پہنچ گئے تھے اور جمہوریت کی حفاظت کا عزم کر رہے تھے۔ رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ ہمیں کتنی بار حراست میں لیں گے؟ وہ ہمارے خلاف کتنی بار ایف آئی آر درج کریں گے؟ ہمیں اس کا کوئی خوف نہیں ہے۔ ہم یہ تحریک اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک گیانیش کمار کو چیف الیکشن کمشنر کے عہدہ سے ہٹا نہیں دیا جاتا اور نظام کو درست نہیں کیا جاتا۔‘‘

مودی، امت شاہ، بھاگوت اور گیانیش کو ہم انصاف کے کٹہرے میں لا کر رہیں گے: راہل

راہل گاندھی نے حراست میں لیے جانے کے بعد ویڈیو پیغام میں پی ایم مودی اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ساتھ ساتھ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کو بھی نشانے پر لیا ہے۔ انھوں نے جبراً حراست میں لیے جانے پر شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ سب گھبراہٹ میں کیا جا رہا ہے۔ نریندر مودی، امت شاہ، موہن بھاگوت اور گیانیش کمار یہ سب کچھ کر سکتے ہیں، لیکن ہم انھیں انصاف کے کٹہرے میں لا کر رہیں گے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’میری گارنٹی ہے کہ ان چاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا، کیونکہ انھوں نے آئین پر حملہ کیا ہے، انھوں نے عوام کی آواز پر حملہ کیا ہے، انھیں اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔‘‘


راہل گاندھی کو لے جا رہی پولیس بس کو کانگریس کارکنان نے پنکچر کر دیا

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کو دہلی پولیس حراست میں لے کر بذریعہ بس کسی دوسری جگہ کی طرف بڑھ رہی تھی، لیکن تبھی بس کا ٹائر پنکچر ہو گیا۔ کانگریس نے ’ایکس‘ پر کچھ تصویریں شیئر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ راہل گاندھی کو لے جا رہی بس کانگریس کے ’ببر شیروں‘ نے پنکچر کیا ہے۔ سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’راہل گاندھی جی کو جس بس میں لے جایا جا رہا تھا، اگرسین کی باؤلی کے پاس کانگریس کے ببر شیروں نے اسے پنکچر کر دیا۔‘‘

راہل اور پرینکا سمیت کئی اراکین پارلیمنٹ حراست میں، پولیس بس لے کر روانہ

راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کو پولیس نے حراست میں لے کر جبراً الگ الگ بسوں میں بٹھا دیا ہے۔ دہلی پولیس کے اس عمل سے وہاں موجود ہزاروں کانگریس لیڈران و کارکنان سخت ناراض نظر آئے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ساتھ ساتھ دہلی پولیس کے خلاف بھی نعرہ بازی کی۔ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سمیت درجنوں اراکین پارلیمنٹ کو پولیس نے جنتر منتر سے پہلے ہی حراست میں لے لیا اور جبراً انھیں بسوں میں بٹھا کر چل پڑے۔ ابھی یہ نہیں معلوم ہو سکا ہے کہ انھیں کہاں لے جایا جا رہا ہے، یا پھر انھیں کسی خاص مقام پر لے جا کر چھوڑ دیا جائے گا۔ کانگریس نے اس عمل کو جمہوریت کے خلاف قرار دیا ہے۔ پرینکا گاندھی کو جبراً حراست میں لیے جانے کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کانگریس نے عزم ظاہر کیا ہے کہ آئین کے لیے، ہندوستانی شہریوں کے لیے اور جمہوریت کے لیے یہ جنگ جاری رہے گی۔


مجھے خاتون پولیس اہلکاروں نے زمین پر پٹخ دیا: پرینکا گاندھی

پرینکا گاندھی دہلی پولیس کے ذریعہ اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ کیے جا رہے ناروا سلوک سے بہت ناراض نظر آ رہی ہیں۔ وہ سڑک پر لیٹ کر مظاہرہ کر رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر جنتر منتر نہیں جانے دیا گیا تو وہ سڑک پر ہی لیٹ کر مظاہرہ کریں گی، وہ بالکل بھی یہاں سے نہیں ہٹیں گی۔ انھوں نے کہا کہ ’’جو اراکین پارلیمنٹ صرف الیکشن کمشنرز سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں، ان کے ساتھ ایسا طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ وہ اراکین پارلیمنٹ کو مارتے ہیں۔‘‘ پرینکا نے الزام عائد کیا کہ خاتون پولیس اہلکاروں نے ان کے پورے جسم پر خراشیں ڈال دی ہیں اور انھیں زمین پر پٹخ دیا ہے۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں پرینکا گاندھی کی طبیعت ناساز بھی بتائی جا رہی ہے۔

پرینکا گاندھی اور دیگر خاتون لیڈران نے سڑک پر لیٹ کر مظاہرہ کیا شروع

اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کو جنتر منتر جانے سے روکے جانے کے بعد پرینکا گاندھی شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ایک ویڈیو میں وہ کہتی نظر آ رہی ہیں کہ ’’یہ کوئی طریقہ ہے؟ پورا ملک دیکھ رہا ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔‘‘ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق راہل گاندھی کو حراست میں لیے جانے کی خبر سے پرینکا گاندھی بہت برہم ہو گئی ہیں۔ پرینکا اور کچھ دیگر خاتون لیڈران سڑک پر نکل کر اس جگہ پہنچ گئی ہیں جہاں راہل گاندھی کو پولیس نے اپنی حراست میں لیا ہوا ہے۔ پرینکا سمیت خاتون لیڈران سڑک پر لیٹ کر مظاہرہ کر رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جو سلوک دہلی پولیس کر رہی ہے، وہ ٹھیک نہیں ہے۔ اس جگہ پر ’دہلی پولیس ہائے ہائے‘ کے نعرے بھی بلند ہو رہے ہیں۔


راہل گاندھی کو پولیس نے حراست میں لیا

کانگریس اراکین پارلیمنٹ کو جنتر منتر کی طرف بڑھنے سے پولیس نے پوری طرح روک دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کسی بھی بس کو گول چکر سے آگے نہیں بڑھنے دیا گیا، جس کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی اور کچھ دیگر اراکین پارلیمنٹ بس سے نیچے اتر گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ راہل گاندھی اور ان کے ساتھ کچھ دیگر اراکین پارلیمنٹ پیدل جنتر منتر کی طرف بڑھ رہے تھے، لیکن پولیس نے راہل گاندھی کو حراست میں لے کر انھیں آگے جانے سے روک دیا ہے۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ کئی دیگر اراکین پارلیمنٹ کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ اس سے قبل کانگریس کے کچھ اراکین پارلیمنٹ بشمول عمران پرتاپ گڑھی بس کی چھت پر چڑھ کر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے دکھائی دیے تھے۔ ایسی بھی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بھی پیدل جنتر منتر کی طرف بڑھنے کی کوشش کی اور انھیں بھی روک دیا گیا ہے۔

جنتر منتر کے راستے پر خوب ہو رہی نعرے بازی

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ کانگریس اراکین پارلیمنٹ بس میں سوار ہو کر جنتر منتر کی طرف بڑھے ہیں تاکہ وہاں دھرنا و مظاہرہ کر سکیں۔ لیکن راستے میں پولیس نے انھیں روک دیا ہے، جس کی وجہ سے اپوزیشن لیڈران و کارکنان ہنگامہ کرنے لگے ہیں۔ اراکین پارلیمنٹ کو لے جا رہی بسوں کے چاروں طرف ہزاروں کی تعداد میں اپوزیشن کارکنان جمع ہیں جو ’گیانیش کا استعفیٰ لے کر رہیں گے‘ اور ’گیانیش غدار ہے‘ جیسے نعرے بلند کر رہے ہیں۔


پولیس نے اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کا راستہ روکا، اب تک نہیں پہنچے جنتر منتر

انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ بس میں سوار ہو کر جنتر منتر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے ان کا راستہ روک دیا ہے۔ ایک بس میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی، کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی و دیگر اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ بیٹھے ہوئے ہیں، جس کی کئی ویڈیوز سامنے آ چکی ہیں۔ سبھی اراکین پارلیمنٹ جنتر منتر پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں اور ہر حال میں ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔