روسی صدر ولادمیر پوتن نے ایک بار پھر تنبیہ دی ہے کہ اگر روس کی خود مختاری اور آزادی کو خطرہ پیدا ہوا تو وہ نیوکلیائی اسلحہ استعمال کرنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ایک انٹرویو کے دوران انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’مجھے امید ہے کہ امریکہ کسی بھی کشیدہ حالت، جس سے نیوکلیائی جنگ شروع ہو سکتا ہے، کو بڑھنے سے روکنے کی کوشش کرے گا۔ لیکن روس کا نیوکلیائی فورس اس کے لیے پوری طرح تیار ہے۔‘‘
Published: undefined
ولادمیر پوتن سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا یوکرین کے خلاف نیوکلیائی اسلحہ استعمال کرنے پر غور کیا جائے گا، تو انھوں نے برجستہ کہا کہ ’’یہاں اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ یوکرین میں ماسکو اپنے مقاصد کو پورا کرے گا۔ پوتن کا کہنا ہے کہ انھوں نے یوکرین معاملے میں بات چیت کے لیے ہمیشہ دروازہ کھلا رکھا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ مغربی ممالک کے ساتھ کسی بھی سمجھوتہ کے لیے پکی گارنٹی کی ضرورت ہوگی۔
Published: undefined
واضح رہے کہ حال ہی میں پوتن نے مغربی ممالک کو دھمکاتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے پاس ایسے اسلحے ہیں جو ان کے علاقوں کو بھی ہدف بنا سکتے ہیں۔ اس بیان سے یہ اندیشہ بڑھ گیا کہ دو سال سے جاری روس-یوکرین جنگ نیوکلیائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز