ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) نے بدھ کو کہا کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے تئیں جوابدہ نہیں ہے، بلکہ صرف مہاراشٹر کے لوگوں کے تئیں جوابدہ ہے۔ ایک دن پہلے مرکزی وزیر داخلہ نے مہاراشٹر میں دو عوامی جلسوں میں اپوزیشن پارٹی کے لیڈر شرد پوار پر تنقید کی تھی۔
Published: undefined
این سی پی (ایس پی) کے قومی ترجمان کلائیڈ کرسٹو اور چیف ترجمان مہیش تاپسی کا یہ ردعمل امت شاہ کے شرد پوار پر تنقید کرتے ہوئے یہ کہنے کے بعد ظاہر کیا گیا کہ ’مہاراشٹر کے لوگوں نے انہیں 50 سال تک برداشت کیا‘۔ امت شاہ نے ریاست میں شرد پوار کے تعاون پر بھی سوال اٹھائے تھے۔
Published: undefined
کرسٹو نے کہا، ’’ہمیں امت شاہ کو کسی قسم کی وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ پوار صاحب نے مہاراشٹر کے لوگوں کے لیے کیا کیا ہے، اس پر سوال اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ مہاراشٹر کے لوگ اور پورے ہندوستان کے لوگ جانتے ہیں کہ شرد پوار نے کیا کیا ہے۔ انہوں نے اپنی 50 سال کی خدمت میں بہت کچھ کیا ہے، عوام جواب دیں گے۔‘‘
Published: undefined
جلگاؤں اور چھترپتی سمبھاجی نگر میں امت شاہ کی جانب سے کیے گئے تبصروں کی مذمت کرتے ہوئے تاپسی نے قوم کی تعمیر میں شرد پوار کی اہم شراکت، خاص طور پر زرعی انقلاب میں ان کے تعاون اور اس وقت کسانوں کی حالت زار کا ذکر کیا، نیز 2001 کے زلزلے کے بعد گجرات میں ریلیف اور بحالی کی کوششوں کا بھی تذکرہ کیا۔
Published: undefined
انہوں نے کہا، "گجرات اور مرکز میں بی جے پی کی حکومتوں کے باوجود شرد پوار جیسے ایک غیر بی جے پی مراٹھی رہنما نے گجرات کی مدد اور تعمیر نو کے لیے قدم اٹھایا، جو مہاراشٹر کی ہمدردی اور اتحاد کی ثقافتی اقدار کی عکاسی کرتا ہے، جو ذمہ دار قیادت کی علامت ہے۔‘‘
Published: undefined
انہوں نے امت شاہ سے کہا کہ دوسروں پر انگلیاں اٹھانے سے پہلے انہیں اور ان کی پارٹی کو آئینے میں دیکھنا چاہئے اور خود سے پوچھنا چاہئے کہ انہوں نے ملک کے لوگوں کے لئے کیا کیا ہے۔
کرسٹو نے کہا، ’’ہر کوئی جانتا ہے کہ شرد پوار نے اپنے سیاسی کیریئر کے 50 سالوں میں، درحقیقت 55 سال میں مہاراشٹر اور ہندوستان کے لوگوں کی خدمت کی ہے اور لوگ ان سے خوش ہیں، لہذا بی جے پی جو بہتر حکمرانی دینے میں ناکام رہی ہے، اسے پوار سے سوال کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز