قومی خبریں

تمل ناڈو: ’کسی بھی وقت دھماکہ ہو سکتا ہے‘، 2 کالجوں اور 7 اسکولوں کو بم سے اڑانے کی ملی دھمکی

ای میل بھیجنے والے کا نام سویتا بالاکرشنن ظاہر کیا گیا ہے، سائبر کرائم ونگ پولیس کی جانب سے تفصیلی تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اصل بھیجنے والا کون ہے۔

<div class="paragraphs"><p>اسکولی طلبا / آئی اے این&nbsp; ایس</p></div>

اسکولی طلبا / آئی اے این  ایس

 
IANS

ایک بار پھر کچھ اسکولوں و کالجوں میں بم دھماکہ کی دھمکی دی گئی ہے۔ اس مرتبہ معاملہ تمل ناڈو میں سامنے آیا ہے جہاں تیروچیراپلی ضلع کے 2 نجی خود مختار کالجوں کے علاوہ 7 اسکولوں کو بروز جمعرات ای میل کے ذریعے بم کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔ پولیس کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق سینٹ جوزف کالج اور ہولی کراس کالج کے علاوہ کیمپین اینگلو انڈین ہائیر سیکنڈری اسکول، سمدھا ہائیر سیکنڈری اسکول، مونٹفورٹ اسکول، آچاریہ شکشا مندر اسکول، راجم کرشنامورتی پبلک اسکول اور امرتا ودیالیم اسکول کو آج صبح ایک ای میل موصول ہوئی جس میں دھمکی دی گئی کہ وہاں کسی بھی وقت بم دھماکہ ہو سکتا ہے۔

Published: undefined

مذکورہ تعلیمی اداروں میں بم دھماکہ کی دھمکی کی خبر ملتے ہی سینئر پولیس افسران نے تمل ناڈو بم ڈٹیکشن اینڈ ڈسپوزل اسکواڈ (بی ڈی ڈی ایس) اور تمل ناڈو فائر اینڈ ریسکیو سروسز ڈپارٹمنٹ کے اہلکاروں کے ساتھ الگ الگ ٹیمیں تشکیل دیں۔ پھر ان ٹیموں نے متعلقہ تعلیمی اداروں کے احاطے کی مکمل تلاشی لی۔ اس تلاشی مہم میں کتوں کی بھی خدمات حاصل کی گئیں۔ فی الحال کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں ملا ہے، تاہم تلاش جاری ہے۔ ابتدائی تفتیش کے بعد پولیس کو شبہ ہے کہ بم کی دھمکی محض افواہ ہے۔

Published: undefined

بتایا جا رہا ہے کہ ای میل بھیجنے والے کا نام سویتا بالاکرشنن ظاہر کیا گیا ہے۔ سائبر کرائم ونگ پولیس کی جانب سے تفصیلی تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اصل بھیجنے والا کون ہے۔ یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے کہ کیا یہ ای میل مزید کسی تعلیمی ادارہ کو بھیجا گیا ہے۔

Published: undefined

واضح رہے کہ اس سے قبل 29 اگست کو ایروڈ میں مقیم انڈین پبلک اسکول اور سیلم، تیروچیراپلی اور ترونیل ویلی میں واقع اس کے کیمپس کو بم کی جعلی دھمکیوں کے ای میل موصول ہوئے تھے۔ علاوہ ازیں مدورائی کے 4 سی بی ایس ای اسکولوں کو 30 ستمبر کو اسی طرح کی دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined