سپریم کورٹ نے انڈر گریجویٹ میڈیکل سمیت کچھ دیگر کورسز میں داخلے کے لیے 5 مئی کو منعقد ہونے والے قومی اہلیت کم داخلہ ٹیسٹ (این ای ای ٹی) کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں کو ایک قبول حقیقت کے طور پر سمجھتے ہوئے پیر کو کہا کہ اس کا (پیپر لیک) پھیلاؤ طے ہونے کے بعد فیصلہ کیاجاسکتا ہے کہ متعلقہ امتحان دوبارہ کرانے کی ضرورت ہے یا نہیں ۔چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس منوج مشرا کی بنچ نے متعلقہ فریقین کے دلائل کو تفصیل سے سننے کے بعد کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس امتحان کے تقدس سے سمجھوتہ ہوا۔
Published: undefined
بنچ نے مرکزی حکومت، امتحان کرانے والی باڈی نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) اور سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) سے تفتیشی پیش رفت سے متعلق تفصیلات 10 جولائی تک عدالت کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ وہ اس معاملے کی مزید سماعت 11 جولائی کو کرے گی۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ امتحان دینے والے کچھ متعلقہ طلباء نے بڑے پیمانے پر امتحان میں بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے امتحان کے دوبارہ انعقاد کا مطالبہ کرتے ہوئے الگ الگ درخواستیں دائر کی ہیں جبکہ کچھ نے درخواست دائر کرکے اس کی (دوبارہ امتحان) مخالفت کی ہے۔ مرکزی حکومت اور این ٹی اے نے امتحان کے دوبارہ انعقاد کی یہ کہتے ہوئے مخالفت کی ہے کہ اس سے لاکھوں ایماندار طلباء کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔
Published: undefined
تاہم، حکومت اور این ٹی اے دونوں نے اعتراف کیا ہے کہ کچھ امتحانی مراکز پر بے ضابطگیوں کی شکایات موصول ہوئیں، جن کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined