قومی خبریں

کولکاتا کارپوریشن انتخابات: بی جے پی کی عرضی پر سماعت سے سپریم کورٹ کا انکار

بی جے پی نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرتے ہوئے الزامات عاید کئے تھے کہ انتخابات سے قبل بی جے پی کے لیڈروں اور کارکنوں پر حملے ہو رہے ہیں۔

سپریم کورٹ کی تصویر، آئی اے این ایس
سپریم کورٹ کی تصویر، آئی اے این ایس  

کولکاتا: کولکاتا کارپوریشن انتخابات میں مرکزی فورسیس کی تعیناتی کے مطالبے کو لے کر دائر بی جے پی کی عرضی پر سپریم کورٹ نے سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے بی جے پی کی عرضی پر سماعت کرنے سے انکار کرتے ہوئے کلکتہ ہائی کورٹ جانے کا مشورہ دیا۔

Published: undefined

بی جے پی نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرتے ہوئے الزامات عاید کئے تھے کہ انتخابات سے قبل بی جے پی کے لیڈروں اور کارکنوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ پارٹی امیدواروں پر کاغذات نامزدگی واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اس لئے عرضی میں سپریم کورٹ سے آزادانہ انتخابات کے لیے مرکزی فورسز کی تعیناتی کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا۔ عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پرمیتا دت، پورنیما چکرورتی اور چندن داس شکایت درج کرانے کے لیے مقامی پولیس اسٹیشن گئے لیکن انتظامیہ نے ان کی شکایت درج کرنے سے انکار کر دیا۔ ان حالات میں کلکتہ کارپوریشن کے اتخابات پرامن اور منصفانہ ہونا ناممکن ہے اس لئے مرکزی فورسز کو تعینات کرنا ضروری ہے۔

Published: undefined

اس سے قبل بی جے پی کے زیر اقتدار تریپورہ میں میونسپل انتخابات کو لے کر ترنمول کانگریس اور سی پی آئی ایم نے عرضی دائر کی تھی۔ اس پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کی بنچ نے مرکزی وزارت داخلہ کو آزادانہ اور پرامن انتخابات کے لیے دو اضافی کمپنیاں تعینات کرنے کی ہدایت دی۔

Published: undefined

دوسری طرف سپریم کورٹ نے مغربی بنگال اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شوبھندو ادھیکاری کے خلاف فوجداری معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ریاستی حکومت کلکتہ ہائی کورٹ کی یک بنچ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ریاستی حکومت نے آج عدالت عظمیٰ سے کہا کہ کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے مقدمات کی جانچ نہیں ہو رہی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اسی دن کہا کہ کلکتہ ہائی کورٹ نے اس سلسلے میں فوری فیصلہ سنایا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined