لوک سبھا انتخابات کے پہلے مرحلہ کی ووٹنگ میں اب کچھ گھنٹے ہی باقی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے لیڈران و کارکنان جہاں کئی ہفتوں کی تشہیر کے بعد کچھ آرام کر کے ووٹنگ کرانے کی تیاری کر رہے ہیں، وہیں عوام پرسکون ہیں اور بیشتر ووٹر یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ انہیں کس امیدوار کے حق میں ووٹ دینا ہے۔ پہلے مرحلے کے تحت یوپی کی 8 سیٹوں پر ووٹنگ ہونے جا رہی ہے، جن میں سے کیرانہ لوک سبھا سیٹ سب سے زیادہ زیر بحث سیٹوں میں سے ایک ہے۔ اس سیٹ پر حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور سماجوادی پارٹی کے درمیان مقابلہ ہے۔ سماجوادی پارٹی نے یہاں سے آنجہانی سابق رکن پارلیمنٹ منور حسن کی بیٹی اقراء حسن کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ وہ لوک سبھا انتخابات میں 'انڈیا' بلاک کی امیدوار کے طور پر سیاسی سفر کا آغاز کر رہی ہیں۔
Published: undefined
اقراء کا مقابلہ بی جے پی کے موجودہ رکن پارلیمنٹ پردیپ چودھری سے ہے۔ پردیپ نے 2019 کے عام انتخابات میں اقراء حسن کی والدہ تبسم بیگم کو شکست دی تھی۔ تاہم اس سے قبل اقراء حسن کے والد مرحوم منور حسن اس سیٹ سے کئی بار پارلیمنٹ میں کیرانہ کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ اقرا کے بھائی ناہید حسن کیرانہ سے موجودہ رکن اسمبلی ہیں۔ بی ایس پی نے اس سیٹ سے شریپال رانا کو امیدوار بنایا ہے، جو کشریہ طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ شریپال چھ مہینے پہلے ہی بی ایس پی میں شامل ہوئے ہیں اور پارٹی نے انہیں کیرانہ سے امیدوار بنا دیا۔ اس سے کشتریہ ووٹوں کی تقسیم کا پورا امکان ہے۔
Published: undefined
اقراء لندن سے تعلیم یافتہ ہیں اور وہ 2021 میں بیرون ملک سے واپسی کے بعد اپنے ایم ایل اے بھائی کے لیے سیاسی مہم میں سرگرم ہو گئی تھیں۔ وہ 29 سال کی ہیں اور کبھی تعلیمی میدان میں کچھ کر گزرنے کی خواہش رکھتی تھیں، لیکن وطن واپسی کے بعد انہوں نے وراثت میں ملی سیاست کو اپنا کیریئر بنا لیا اور چند ہی سالوں میں مغربی یوپی سمیت پوری ریاست میں اپنی ایک الگ پہچان بنا لی۔
Published: undefined
تصور کیا جا رہا ہے کہ اقراء حسن کیرانہ سے بڑے فرق سے جیت حاصل کریں گی اور اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ منور حسن کی بیٹی ہونے کی وجہ سے اقراء کو علاقہ میں پسند کیا جاتا ہے اور صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ہندو بھی انہیں اتنا ہی پسند کرتے ہیں۔ اقراء مسلم گوجر برادری سے تعلق رکھتی ہیں اور ہندو گوجر بھی ان کی یکساں طور پر حمایت کرتے ہیں۔ تاہم بی جے پی امیدوار پردیپ چودھری گوجر ہیں لیکن جاٹ ووٹرس میں ان کے تئیں ناراضگی ہے۔ ایسی صورت حال میں وہ مودی میجک اور آر ایل ڈی سے اتحاد پر آس لگا رہے ہیں۔ ادھر ٹھاکر ووٹر بھی بی جے پی سے ناراض چل رہے ہیں، جو بی جے پی کو جھٹکا دے سکتے ہیں۔ دراصل ٹھاکر اس بات سے ناراض ہیں کہ ان کی برادری کو ٹکٹ تقسیم کرنے میں نظر انداز کیا گیا ہے۔ دوسری طرف اقراء نے دیگر حلقوں کے علاوہ کیرانہ میں بھی انہوں نے عظیم الشان ریلی کر کے بی جے پی کو ہرانے کا عزم لیا ہے۔ اقراء حسن کو مسلمان یکطرفہ طور پر ووٹ دیں گے وہیں انہوں نے دلت، جاٹ، کشیپ، گوجر اور دیگر ووٹروں کو اپنی طرف مائل کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔
Published: undefined
منور حسن کی وراثت، اقراء حسن کی تعلیم یافتہ خاتون والی شبیہ، مسلمانوں کا اتحاد اور ٹھاکروں کی ناراضگی... یہ تمام ایسی باتیں ہیں جو اقراء حسن کے حق میں اور بی جے پی امیدوار کے خلاف جاتی ہیں۔ کیرانہ میں کل ووٹرس کی تعداد 1722432 ہے، جن میں سے 921820 مرد اور 800518 خاتون ووٹر ہیں۔ اس سیٹ پر سب سے زیادہ 6 لاکھ مسلمان ووٹر ہیں جو کسی کی بھی جیت اور ہار کا سبب بن سکتے ہیں۔ گوجر ووٹروں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ ہے، اس کے علاوہ دلت اور جاٹ ووٹروں کی تعداد بھی ڈھائی ڈھائی لاکھ ہے۔ سال 2019 کے انتخابات میں بی جےپی کے امیدوار پردیپ چودھری کو 566961 ووٹ حاصل ہوئے تھے، جبکہ تبسم حسن کو 474801 ووٹ ملے، اور کانگریس کے ہریندر ملک 69355 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ کانگریس اور سماجوادی پارٹی اس مرتبہ اتحاد میں ہیں، لہذا اس کا فائدہ بھی اقراء حسن کو ملے گا۔
Published: undefined
عوامی مسائل کی بات کریں تو یہاں بنیادی ڈھانچے اور ترقی کے نام پر ووٹ دیا جائے گا۔ اس کےعلاوہ یہاں کے کسان بھی مسائل سے دو چار ہیں اور سڑک وغیرہ کے مسئلہ سے بھی لوگ پریشان ہیں۔ اس سب کی وجہ سے بی جے پی کو لوگوں کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بی جے پی نے کچھ سال پہلے یہاں پلاین یعنی ہجرت کے مسئلے کو زور و شور سے اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ خوف کی وجہ سے یہاں کے ہندو ہجرت کر رہے ہیں۔ تاہم موجودہ انتخابات کے دوران ہجرت پر کوئی بات نہیں کی گئی اور عوام یہ جان چکے ہیں کہ لوگوں کے ہجرت کر کے جانے کی وجہ خوف نہیں بلکہ ترقی کے امکانات ہیں اور مغربی یوپی کے تقریباً تمام چھوٹے شہروں کے لوگ بہتر مستقبل کے لیے بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔
Published: undefined
بی جے پی امیدوار پردیپ چودھری کیرانہ سے موجودہ رکن پارلیمنٹ ہیں اور ریاست و مرکز دونوں جگہ بی جے پی کی ہی حکومت ہے، لہذا اسے یہاں اقتدار مخالف لہر کا بھی سامنا ہے۔ نوجوان، تاجر، کسان اور مزدور طبقہ کی حالت زار کسی سے چھپی نہیں ہے، جس کا نقصان بی جے پی کو ہوگا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز