قومی خبریں

کسان تحریک: سکھ سنت کی خودکشی کے بعد غم و غصہ کی لہر

کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجےوالا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مودی حکومت پر حملہ بولا اور کہا، ’’مودی حکومت کی ضد خود کش ہے کیونکہ یہ ملک کے اناج پیدا کرنے والوں کی جان کی دشمن بن گئی ہے

کسان تحریک / تصویر یو این آئی
کسان تحریک / تصویر یو این آئی 

نئی دہلی: دہلی کے کنڈلی بارڈر پر زرعی قوانین کے خلاف چل رہی کسان تحریک میں شامل سکھ سنت رام سنگھ نے گزشتہ روز خود کشی کر لی۔ اس واقعہ پر لوگوں میں غم و غصہ کی لہر پائی جا رہی ہے۔ کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجےوالا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مودی حکومت پر حملہ بولا اور کہا، ’’مودی حکومت کی ضد خود کش ہے کیونکہ یہ ملک کے اناج پیدا کرنے والوں کی جان کی دشمن بن گئی ہے۔

Published: undefined

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ کرنال کے سنت بابا رام سنگھ جی نے کنڈلی بارڈر پر کسانوں کی بدحالی کو دیکھ کر خود کشی کر لی۔ غم کے ان لمحات میں میری تعزیت اور خراج عقیدت۔ کئی کسان اپنی قربانی پیش کر چکے ہیں۔ مودی حکومت ظلم کی حدود کو عبور کر چکی ہے۔ ضد چھوڑ کر فوری طور پر زرعی قوانین واپس لئے جائیں۔

Published: undefined

شرومنی اکالی دل کے سربراہ سکھبیر سنگھ بادل نے ٹوئٹر پر کہا ، ’’یہ سن کر دکھ ہوا کہ سنت بابا رام سنگھ جی نانکسر سنگڑا والے نے کسانوں کی تکلیف کو دیکھ کر سنگھو بارڈر پر خود کو گولی مار لی۔ سنت جی کی قربانی رائیگاں نہیں جاے گی۔ میں مرکزی حکومت سے گزارش کرتا ہوں کہ صورتحال کو مزید بگڑنے نہ دیں اور تینوں زرعی قواین کو منسوخ کریں۔

Published: undefined

شرومنی اکالی دل کی لیڈر ہرسمرت کور بادل نے ٹوئٹ کیا، ’’مرکزی حکومت یہاں تک ضدی بنی ہوئی ہے کہ کسانوں کی تکلیف کی تردید کر رہی ہے۔ بابا رام سنگھ جی سنگڑا والے نے کنڈلی سرحد پر اپنے ارد گرد جمع لوگوں کی تکلیف کو دیکھ کر خود کشی کر لی۔ امید ہے کہ مرکزی حکومت اس سانحہ کے بعد بیدار ہوگی اور اس سے پہلے کی بہت دیر ہو جائے، تینوں زرعی قوانین کو واپس لیگی۔‘‘

خیال رہے کہ سکھ گرنتھی رام سنگھ سنگڑا والے نے گزشتہ روزسنگھو بارڈر پر زرعی قونین کے خلاف خود کشی کی اور ایک سوسائڈ نوٹ بھی چھوڑا ہے۔ نوٹ میں کسان تحریک کے تئیں مرکزی حکومت کی عدم دلچسپی کا ذکر کیا گیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined