کانگریس رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے لیے جمعہ کے روز راجیہ سبھا میں وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف استحقاق کی خلاف ورزی کا نوٹس پیش کیا۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ طنزیہ انداز میں کیا گیا تبصرہ نہ صرف بے عزتی والا ہے بلکہ ہتک آمیز بھی ہے۔
Published: undefined
کے سی وینوگوپال نے اس کی جانکاری دیتے ہوئے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’راجیہ سبھا سربراہ کے سامنے ایک نوٹس داخل کیا ہے کہ پی ایم مودی نے سونیا گاندھی جی اور راہل گاندھی جی کی کنیت کے بارے میں ہتک آمیز اور نچلی سطح کا تبصرہ کر کے ان کے استحقاق کی خلاف ورزی کی ہے۔ کم از کم پی ایم کے ذریعہ اس طرح کے تبصروں کے لیے پارلیمنٹ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
Published: undefined
راجیہ سبھا کے سربراہ کے سامنے داخل استحقاق کی خلاف ورزی کے نوٹس میں کے سی وینوگوپال نے کہا ہے کہ وزیر اعظم مودی کے ذریعہ 9 فروری کو راجیہ سبھا میں پہلی نظم میں طنزیہ طریقے سے کیا گیا تبصرہ نہ صرف بے عزتی والا ہے بلکہ نہرو فیملی، خصوصاً سونیا گاندھی اور راہل گاندھی، جو لوک سبھا کے رکن ہیں، کے لیے ہتک آمیز بھی ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ پارلیمنٹ میں صدر جمہوریہ کی تقریر پر شکریہ کی تجویز کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے 9 فروری کو راجیہ سبھا میں کانگریس اور گاندھی فیملی پر حملہ کرتے ہوئے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی پر ’نہرو‘ کنیت کا استعمال نہیں کرنے کو لے کر حملہ کیا تھا۔ وزیر اعظم نے پوچھا تھا کہ نہرو سر نیم (کنیت) کوئی کیوں نہیں رکھتا؟ انھوں نے کہا تھا کہ میں نے اخباروں میں پڑھا ہے کہ اس ملک میں 600 منصوبے گاندھی-نہرو فیملی کے نام پر ہیں۔ لیکن مجھے حیرانی ہے کہ کوئی شخص نہرو کنیت کیوں نہیں رکھتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز