نئی دہلی: ریزرو بینک آف انڈیا کے سابق گورنر رگھورام راجن نے مودی حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے ہیں۔ رگھورام راجن کا کہنا ہے کہ اگر پروڈکشن لنکڈ انسینٹیو اسکیم (پی ایل آئی اسکیم) ناکام ہو جاتی ہے تو حکومت کیا کرے گی؟
Published: undefined
رگھورام راجن نے کہا کہ مودی حکومت کی پی ایل آئی اسکیم کی کامیابی کا کیا ثبوت ہے جو اصل میں ملک میں مینوفیکچرنگ سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے لائی گئی تھی؟ انہوں نے سوال کیا ہے کہ کیا ہندوستان واقعی مینوفیکچرنگ ہب بن گیا ہے، جس کے دعوے کیے جا رہے ہیں؟
Published: undefined
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ملک میں مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے مختلف شعبوں کے لیے 1.97 لاکھ کروڑ روپے کی پروڈکشن لنکڈ انسینٹیواسکیمیں شروع کی ہیں۔ راجن کا کہنا ہے کہ اس منصوبہ میں موبائل مینوفیکچرنگ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے لیکن سچ یہ ہے کہ ہندوستان موبائل مینوفیکچرنگ کا مرکز نہیں بن سکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس اسکیم کا کوئی اثر نظر نہیں آ رہا ہے۔ اس لیے اسے دیگر شعبوں میں نافذ کرنے سے پہلے اس کی اب تک کی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہیے۔
Published: undefined
اپنے تحقیقی نوٹ میں رگھورام راجن نے لکھا ہے کہ ہندوستان ابھی تک موبائل فون کی تیاری کے میدان میں بڑا نہیں بن سکا ہے۔ ان کے ساتھ دو اور مصنفین راہل چوہان اور روہت لامبا نے ذکر کیا ہے کہ یہ اسکیم مینوفیکچرنگ سیکٹر کو فروغ دینے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔
Published: undefined
مرکز کی مودی حکومت نے 1.97 لاکھ کروڑ روپے کی لاگت سے پروڈکشن لنکڈ انسینٹیو اسکیم (پی ایل آئی) کا اعلان کیا تھا۔ اس کے ذریعے مینوفیکچرنگ کے چیمپئن بننے اور ملک کے مختلف شعبوں میں عام روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined